ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی ہائی کورٹ نے نجی اسکولوں کے خلاف دائر مفادعامہ کی عرضی خارج کی

دہلی ہائی کورٹ نے نجی اسکولوں کے خلاف دائر مفادعامہ کی عرضی خارج کی

Wed, 09 Dec 2020 23:19:23    S.O. News Service

نئی دہلی، 9 دسمبر (آئی این ایس انڈیا) دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز نجی اسکولوں کے خلاف دائر ایک پی آئی ایل کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ یہ بحث میں آنے کیلئے دائر درخواست ہے نہ کہ مفاد عامہ کی عرضی۔

اس کے علاوہ عدالت نے درخواست گزار پر 20 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ درخواست میں نجی اسکولوں پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ کووڈ 19 وبا کے دوران زیادہ فیس وصول کرتے ہیں اور طلبہ کی آن لائن کلاسز نہیں لیتے ہیں۔

چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس پریتک جالان کی بنچ نے کہا کہ یہ درخواست بغیر کسی تیاری کے دائر کی گئی ہے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ کون سے اسکول زیادہ فیس وصول کررہے ہیں یا انہیں آن لائن کلاسز میں جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ درخواست میں دعوی کیا گیا ہے کہ آن لائن کلاسز کوصحیح طریقے سے نہیں چلایا جارہا ہے۔

عدالت نے درخواست گزار سے ’مناسب طریقے سے‘ کے معنی پوچھے۔ بنچ نے کہاکہ اس لفظ کا معنی بالکل واضح نہیں ہے، کچھ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ صحیح طریقے سے نہیں کیا جارہا ہے۔عدالت نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک بیکار معاملہ ہے۔ بنچ نے کہاکہ یہ عرضی بغیر کسی تیاری کے دائر کی گئی ہے، اس میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ بحث کے لئے دائر کی گئی درخواست ہے، یہ کہیں سے بھی مفاد عامہ کی قانونی چارہ جوئی نہیں ہے۔

عدالت نے عرضی مسترد کردی اور دہلی لیگل سروسز اتھارٹی کو چار ماہ میں 20 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کی ہدایت کی۔ یہ پٹیشن انسداد بدعنوانی کونسل آف انڈیا ٹرسٹ نے ایڈووکیٹ اشوک کمار سنگھ کے توسط سے دائر کی ہے۔


Share: